حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کے مرکزِ مختصر مدتی کورسز میں الصادق (ع) انسٹی ٹیوٹ برائے اسلامک بینکنگ، فائنانس و تکافل شعبہ قم، ایران کے زیرِ اہتمام، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ اور مجمع جہانی اہل بیت (ع) کے تعاون سے جمعرات، 15 اکتوبر 2026ء کو ’’اسلامی بینکاری: اصول، عملی صورتِ حال اور مستقبل کے امکانات‘‘ کے عنوان سے ایک تخصصی سمینار منعقد ہوا۔
یہ علمی پروگرام صبح 9:30 سے 11:30 بجے تک جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کے مرکزِ مختصر مدتی کورسز میں منعقد ہوا، جس میں اسلامی مالیات، فقہِ اقتصادی، بینکاری کے نظام اور مالیاتی منڈیوں سے متعلق علمی و تحقیقی موضوعات کو زیرِ بحث لایا گیا۔

سمینار کے لیے مختلف علمی و تحقیقی اداروں سے وابستہ ماہرینِ اقتصادیات اور حوزہ کے اساتذہ کو مدعو کیا گیا تھا، تاکہ اسلامی بینکاری کے اصول، ان کے عملی اطلاق اور مستقبل کے امکانات کا مختلف علمی زاویوں سے جائزہ لیا جا سکے۔
پروگرام کے مقررین میں انجمن مالی اسلامی ایران کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر یوسفی مقدم، استادِ حوزہ اور "مؤسسہ فقہ اقتصادی طیبات" کے مدیر حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر عبادی، مدرسہ اقتصاد کے رئیس، مجتمع عالی علوم اسلامی کے مدیر اور استادِ حوزہ حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر سید حمید جوشقانی نیز امام خمینی (رہ) تعلیمی و تعلیمی انسٹی ٹیوٹ کے شعبۂ اقتصاد کے مدیر حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر سید محمد کاظم رجائی شامل تھے۔
مقررین نے اسلامی بینکاری کے سلسلہ میں اپنی اور متعلقہ اداروں کی فعالیت پر مبنی رپورٹس پیش کرتے ہوئے اسلامی بینکاری کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ پیش کیا۔

ڈاکٹر یوسفی مقدم نے اسلامی مالیاتی نظام کے بنیادی اصولوں اور بینکاری کے عملی ڈھانچے میں ان کے نفاذ کی ضرورت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی بینکاری کو محض سود سے اجتناب تک محدود نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس میں حقیقی اقتصادی سرگرمی، شفافیت، عدل اور ذمہ دارانہ مالیاتی معاملات کو بھی بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
انجمن مالی اسلامی ایران کے جنرل سیکرٹری نے مالیاتی منڈیوں کے موجودہ مسائل اور اسلامی اصولوں کے مطابق ان کی تنظیمِ نو کے امکانات پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے اس امر کی ضرورت پر زور دیا کہ جدید مالیاتی ابزار اور منڈیوں کا فقہی و اقتصادی تجزیہ کرتے ہوئے ایسے عملی حل پیش کیے جائیں جو شرعی تقاضوں اور اقتصادی ضروریات دونوں کو پورا کر سکیں۔
حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر عبادی نے فقہِ اقتصادی کے زاویے سے اسلامی بینکاری کے اصول و ضوابط بیان کیے اور کہا کہ بینکاری کے معاہدات اور مالیاتی سرگرمیوں میں شرعی احکام کی رعایت کے ساتھ ساتھ موضوع شناسی اور اقتصادی حقائق کی درست تفہیم بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق اسلامی بینکاری کی کامیابی کے لیے فقہاء، ماہرینِ اقتصاد اور بینکاری کے ماہرین کے درمیان مسلسل علمی تعاون ناگزیر ہے۔

حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر سید حمید جوشقانی نے اسلامی بینکاری کے تعلیمی و تحقیقی پہلوؤں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی اقتصادیات کی ترقی کے لیے ایسے علمی مراکز اور تربیتی پروگراموں کی ضرورت ہے جو حوزوی علوم اور جدید اقتصادی دانش کے درمیان مؤثر رابطہ قائم کریں۔ انہوں نے اسلامی بینکاری کے مستقبل کو علمی تربیت، تحقیق اور عملی تجربات سے وابستہ قرار دیا۔

حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر سید محمد کاظم رجائی نے اسلامی مالیاتی نظام کے مستقبل کے امکانات اور جدید اقتصادی تقاضوں کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی بینکاری کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ اجتہادی بصیرت، دقیق اقتصادی مطالعات اور قابلِ عمل پالیسی سازی کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اسلامی مالیاتی نظام میں اعتماد، شفافیت اور حقیقی اقتصادی پیداوار کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
سمینار کے موضوع کی مناسبت سے اسلامی بینکاری کے اصول و ضوابط، مالیاتی سرگرمیوں میں شرعی احکام کی رعایت، مالیاتی منڈیوں کے مسائل اور جدید اقتصادی تقاضوں کے تناظر میں اسلامی مالیاتی نظام کے مستقبل جیسے موضوعات علمی گفتگو کے اہم محور قرار پائے۔

قابل ذکر ہے کہ اس علمی پروگرام کے انعقاد میں متعدد علمی، حوزوی اور تحقیقی اداروں نے تعاون کیا۔ جن میں مؤسسہ آموزشی امام خمینیؒ، مؤسسہ اقتصادی طیبات، مؤسسہ شجرۂ طیبہ، مؤسسہ باقرالعلوم، مجتمع عالی علوم اسلامی، مدرسہ اقتصاد و مدیریت، دانشگاه قم، مرکز پژوهشهای مجلس شورای اسلامی، مرکز موضوعشناسی احکام فقہی، پژوهشگاه فرهنگ و اندیشہ، پژوهشگاه حوزه و دانشگاه، مکتب فقہ و نظام، انجمن اقتصاد اسلامی حوزہ، مرکز فقهی ائمہ اطہار(ع)، مرکز مدیریت حوزہ علمیہ اور خبرگزاری حوزہ شامل تھے۔
یہ سمینار اسلامی اقتصادیات اور جدید بینکاری کے باہمی تعلق پر علمی تبادلۂ خیال کے لیے ایک تخصصی علمی نشست کے طور پر منعقد کیا گیا، جس کا مقصد اسلامی بینکاری سے متعلق اصولی مباحث اور عملی تقاضوں کو علمی و تحقیقی سطح پر زیرِ غور لانا تھا۔











آپ کا تبصرہ